شقی القلب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سنگدل، ظالم و جابر، ستم گر۔ "وہ کون شقی القلب تھا جس نے رئیس جیسے انسان کو نشانہ بنایا۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٢٥، نومبر، ١١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مرکب توصیفی ہے۔ عربی میں اسم صفت 'شقی' کے ساتھ 'ال' بطور حرف تخصیص لگا کر عربی اسم مذکر 'قلب' بطور موصوف ملنے سے مرکب بنا۔ عربی سے اردو میں بعینہ داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٩٢ء، کو "خدائی فوجدار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سنگدل، ظالم و جابر، ستم گر۔ "وہ کون شقی القلب تھا جس نے رئیس جیسے انسان کو نشانہ بنایا۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ٢٥، نومبر، ١١ )